خال

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ قدرتی سیاہ نقطہ جو چہرے یا جسم کے کسی حصے پر ہوتا ہے، تل۔  خوش چشم و خوش اطوار و خوش آواز و خوش اندام اک خال پہ قربان سمرقند و بخارا      ( ١٩٣٣ء، سیف و سبو، ١٧٤ ) ٢ - کاجل کا وہ تل جیسا نشان جو خوبصورتی کے لیے چہرے پر لگاتے ہیں یا دفع نظر بد کے لیے کم سن بچوں کے چہرے پر لگایا جاتا ہے۔  نہیں رخسار پر اس مہ جبیں کے خال کا جل کا خدا جانے کہ یہ کن تیرہ بختوں کا ستارا ہے      ( ١٨٤٥ء، کلیات ظفر، ٢٩٢:١ ) ٣ - وہ داغ جو پرندوں یا جانوروں کے جسم پر ہوتے ہیں، چتی۔  ہے نازاں اگر اپنے خالوں پر چیتا تو مغرور ہے اپنے سینگوں پہ ارنا      ( ١٩٠١ء، جنگل میں جنگل، ٦٨ ) ٤ - دو رنگا کبوتر جس کے بازو کے پر سرخ اور باقی سفید ہوتے ہیں۔ "ہر قسم کے کبوتروں کے ڈھیروں پنجرے. ہر رنگ کا حال ہر رنگ کا. شیرازی گولے۔"      ( ١٩٦٧ء، شاہد احمد دہلوی، ساقی، جولائی، ٤١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'خال' ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء میں "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٤ - دو رنگا کبوتر جس کے بازو کے پر سرخ اور باقی سفید ہوتے ہیں۔ "ہر قسم کے کبوتروں کے ڈھیروں پنجرے. ہر رنگ کا حال ہر رنگ کا. شیرازی گولے۔"      ( ١٩٦٧ء، شاہد احمد دہلوی، ساقی، جولائی، ٤١ )

جنس: مذکر