خالق

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - خلق کرنے والا، پیدا کرنے والا، موجد (مراد : اللہ تعالٰی) "اردو زبان کے اصل خالق صوفیائے کرام ہیں۔"      ( ١٩٧٢ء، صوفیائے بہار اور اردو، ٣١ ) ١ - خدائے تعالٰی کا ایک صفاتی نام جو کائنات کو پیدا کرنے والا ہے۔ "چھوٹے سے واقعہ سے انسان کی کم ظرفی اور اصلیت اور خالق و مالک کی بندہ پروری روز روشن کی طرح سامنے آ جاتی ہے۔"      ( ١٩٧٦ء، مرحبا الحاج، ١٩٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مجرد کے باب سے اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور صفت اور گاہے بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٤٩٢ء کو "دکنی ادب کی تاریخ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خلق کرنے والا، پیدا کرنے والا، موجد (مراد : اللہ تعالٰی) "اردو زبان کے اصل خالق صوفیائے کرام ہیں۔"      ( ١٩٧٢ء، صوفیائے بہار اور اردو، ٣١ ) ١ - خدائے تعالٰی کا ایک صفاتی نام جو کائنات کو پیدا کرنے والا ہے۔ "چھوٹے سے واقعہ سے انسان کی کم ظرفی اور اصلیت اور خالق و مالک کی بندہ پروری روز روشن کی طرح سامنے آ جاتی ہے۔"      ( ١٩٧٦ء، مرحبا الحاج، ١٩٧ )

اصل لفظ: خلق