خامی
معنی
١ - کچاپن، ناپختگی، ناسمجھی۔ وہ مہ ہے بدر جس کو ہما تمامی ثمر کس کام کا جس میں ہے خامی ( ١٨٧٢ء، خامد خاتم النبین، ٢٠٤ ) ٢ - نقص، عیب، برائی۔ "رات آپ نے مری تقریر سنی ! . کی آپ ہندوستان میں سیکولرازم کی تیسری خامی کی دوسری مشق پر تھے کہ مجھے نیند آ گئی۔" ( ١٩٨٦ء، تکبیر، کراچی، ٢٤، جولائی، ٤٧ ) ٣ - غلطی۔ "آخر میں قارئین کرام سے . گزارش ہے کہ کتاب کے مطالعہ کے وقت جو فرو گذاشتیں نظر آئیں ان سے . آگاہ فرمائیں تاکہ آئندہ اشاعت میں ان خامیوں کا ازالہ کیا جائے۔" ( ١٩٤٧ء، جراحیات زاہراوی، ٥ ) ٤ - کمی۔ "خامیوں کو دور کرنے کے لیے فلپ فلاپ میں چند اضافے کیے جاتے ہیں۔" ( ١٩٨٤ء، ماڈل کمپیوٹر بنائیے، ٨٩ ) ٥ - ناتجربہ کاری، اناڑی پن۔ اے آرزو اپنی خطا کیا، تھی یہ سوزِ محبت کی خامی جب شمع بناتے بن نہ پڑی پروانہ بنا کر چھوڑ دیا ( ١٩٥١ء، آرزو لکھنوی، سازحیات، ١٣ ) ٦ - نادانی، بے وقوفی۔ وہ موسٰی کی تمناتں کی خامی وہ اس کی شرح حرفِ لن ترانی ( ١٩٤٧ء، نوائے دل، ٣٤٦ ) ٧ - کمزوری۔ "اختر شیرانی جو نئی شاعری کا شہریار تھا جس میں بشری خامیاں چاہے بے شمار ہوں لیکن جس کے متعلق کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مکتبر تھا۔" ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٧٣ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'خام' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت و اسمیت لگانے سے 'خامی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - نقص، عیب، برائی۔ "رات آپ نے مری تقریر سنی ! . کی آپ ہندوستان میں سیکولرازم کی تیسری خامی کی دوسری مشق پر تھے کہ مجھے نیند آ گئی۔" ( ١٩٨٦ء، تکبیر، کراچی، ٢٤، جولائی، ٤٧ ) ٣ - غلطی۔ "آخر میں قارئین کرام سے . گزارش ہے کہ کتاب کے مطالعہ کے وقت جو فرو گذاشتیں نظر آئیں ان سے . آگاہ فرمائیں تاکہ آئندہ اشاعت میں ان خامیوں کا ازالہ کیا جائے۔" ( ١٩٤٧ء، جراحیات زاہراوی، ٥ ) ٤ - کمی۔ "خامیوں کو دور کرنے کے لیے فلپ فلاپ میں چند اضافے کیے جاتے ہیں۔" ( ١٩٨٤ء، ماڈل کمپیوٹر بنائیے، ٨٩ ) ٧ - کمزوری۔ "اختر شیرانی جو نئی شاعری کا شہریار تھا جس میں بشری خامیاں چاہے بے شمار ہوں لیکن جس کے متعلق کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مکتبر تھا۔" ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٧٣ )