خاندانی

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - خاندان سے متعلق، جو چیز بزرگوں سے چلی آرہی ہو۔ "انگریزی ناموں کے درج کرنے کا یہ طریقہ ہے کہ خاندانی یا سر نام جو آخری جزو ہوتا ہے پہلے درج ہوتا ہے"      ( ١٩٧٠ء، نظام کتب خانہ، ١٩٦ ) ٢ - شریف گھرانے کا فرد، اعلٰی خاندان والا۔ "میری نگاہ میں ایک لڑکا ہے وہ اس سال آئی سی ایس کے امتحان میں بیٹھ رہا ہے . خاندانی لڑکا تھا"      ( ١٩٣٩ء، شمع، ٣٠١ ) ٣ - عمدہ نسل کا۔ "واجد علی شاہ بادشاہ تھے . ان کو خاندانی مرغیوں کا بڑا شوق تھا"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٤٠:٣ )

اشتقاق

ترکی زبان سے ماخوذ لفظ 'خان' کے ساتھ ہندی اسم 'دان' لگنے سے 'خاندان' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ صفت لگانے سے 'خاندانی' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٧٩ء کو "مسدس حالی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خاندان سے متعلق، جو چیز بزرگوں سے چلی آرہی ہو۔ "انگریزی ناموں کے درج کرنے کا یہ طریقہ ہے کہ خاندانی یا سر نام جو آخری جزو ہوتا ہے پہلے درج ہوتا ہے"      ( ١٩٧٠ء، نظام کتب خانہ، ١٩٦ ) ٢ - شریف گھرانے کا فرد، اعلٰی خاندان والا۔ "میری نگاہ میں ایک لڑکا ہے وہ اس سال آئی سی ایس کے امتحان میں بیٹھ رہا ہے . خاندانی لڑکا تھا"      ( ١٩٣٩ء، شمع، ٣٠١ ) ٣ - عمدہ نسل کا۔ "واجد علی شاہ بادشاہ تھے . ان کو خاندانی مرغیوں کا بڑا شوق تھا"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٤٠:٣ )