خانم

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - اعلٰی خاندان کی عورتوں کا لقب، شریف زادی، بیگم۔ "مکان تا مکان ایک محشر بپا تھا نہ بیگم نہ خانم نہ بچی نہ بیٹی مگر سوئے میدان جو دیکھا تو ہاتھوں میں گولے تھے یا کارتوسوں کی پیٹی۔"      ( ١٩٦٢ء، ہفت کشور، ٥٠ ) ٢ - [ مجازا ]  بیوی، زوجہ۔  الٰہی خیر کہ خانم کو شوق سایہ ہے بلا تو یوں بھی وہ تھیں ہو نہ جائیں اب آسیب      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٦٨ ) ٤ - بیگم صاحب۔ "مردوں کے لیے بے آفندی اور عورتوں کے لیے خانم استعمال ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ١:٣ ) ٥ - نام کے ساتھ عزت یا بڑائی کے لیے۔  نہ جان اس کو شب مہ یہ چاندانی خانم کمند نور پہ اوج قمر سے اوتری ہے      ( ١٨١٨ء، انشا، کلیات، ١٥٧ )

اشتقاق

ترکی زبان سے ماخوذ 'خان' کے ساتھ 'م' بطور لاحقۂ تانیث لگانے سے 'خانم' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨١٨ء کو "کلیات انشا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اعلٰی خاندان کی عورتوں کا لقب، شریف زادی، بیگم۔ "مکان تا مکان ایک محشر بپا تھا نہ بیگم نہ خانم نہ بچی نہ بیٹی مگر سوئے میدان جو دیکھا تو ہاتھوں میں گولے تھے یا کارتوسوں کی پیٹی۔"      ( ١٩٦٢ء، ہفت کشور، ٥٠ ) ٤ - بیگم صاحب۔ "مردوں کے لیے بے آفندی اور عورتوں کے لیے خانم استعمال ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ١:٣ )

اصل لفظ: خان
جنس: مؤنث