خاک
معنی
١ - مٹی۔ "اس سرزمیں کو لاکھوں براتیوں کی بلا امتیاز مہمان نوازی کا شرف حاصل ہے یہاں کی خاک باعث نجات ہے"۔ ( ١٩٧٢ء، میاں کی ایڑیا تلے، ٤٢ ) ٢ - گرد، دھول۔ "خاکی برجیس اور خاکی ریشمی بنیان پہنے تھیں۔ ان کے لمبے لمبے بالوں میں جنگل کی خاک اٹی ہوئی تھی"۔ ٣ - زمین، ارض، ملک۔ پونہچا دے مجھے جلد بس اے خالق افلاک اس خاک پہ جس خاک سے ملتی ہے مری خاک ( ١٨٧٤ء، مراثی، انیس، ٢٨:١ ) ٦ - قبر، تربت۔ "دلی مٹ گئی دلی والے خاک میں جا سوئے"۔ ( ١٩٤٤ء، یہ دلی ہے، ٥ ) ٧ - نفی، تاکیدِ نفی کے لیے، ہرگز نہیں۔ زندگی زندہ دلی کا نام ہے مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں ( ١٨١٦ء، دیوان، ناسخ، ٧٢:١ ) ١ - بے کار، بے حاصل، فضول، بے فائدہ۔ اب خاک آپ اس کی عیادت کو جائیں گے اب تو سپردخاک بھی بیمار ہو چکا ٢ - کچھ نہیں (نفی کے معنوں میں) "اس ذلیل اور بے ہودہ قوم پر خاک بھی اثر نہ ہوا"۔ ( ١٩٣٤ء، قرآنی قصے، ١٤٢ ) ٣ - کیونکر، کس طرح، کیا۔ مری خوشی انھیں کے ساتھ تھی، انھیں کے ساتھ رہ گئی ہنسی کا نام خاک لوں، وہ آنسوؤں میں بہہ گئی ( ١٩٢٥ء، عالم خیال، شوق قدوائی، ٢١ ) ٤ - کچھ۔ "حضرت نے کیا پوچھا تھا، مجھے تو خاک نہیں یاد رہا"۔ ( ١٩٢٥ء، مینابازار، شرر ) ٥ - ہیچ، بے وقعت۔ بس نہ دنیا کی رکھ اے صاحب ادراک ہوس خاک ہی خاک ہے سب خاک کی کیا خاک ہوس دنیا ہے دنی خاک ہے دنیا کا زر و مال تذلیل کی بنیاد ہیں یہ حشمت و اجلال ( ١٨١٨ء، کلیات، انشا، ٦٥ )( ١٩٢٠ء، روح ادب، ٤٩ ) ٦ - تف، افسوس۔ دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پر کہ پتھر نہیں ہوں میں ( ١٨٦٩ء، دیوان، غالب، ١٩٥ ) ٧ - تحقیر کے لیے۔ ایسے سے خاک مہرو وفا کی امید ہو جس پر ہنوز راز محبت عیاں نہ ہو "خاک اچھے ہیں، اچھے ہوتے تو ہماری یہ حالت ہوتی"۔ ( ١٩٠٣ء، گل کدہ، عزیز، ٧٤ )( ١٩٧٥ء، خاک نشین، ٢١ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اردو میں آیا۔ سب سے پہلے کلام بابا فرید میں ١٢٦٥ء کو ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مٹی۔ "اس سرزمیں کو لاکھوں براتیوں کی بلا امتیاز مہمان نوازی کا شرف حاصل ہے یہاں کی خاک باعث نجات ہے"۔ ( ١٩٧٢ء، میاں کی ایڑیا تلے، ٤٢ ) ٢ - گرد، دھول۔ "خاکی برجیس اور خاکی ریشمی بنیان پہنے تھیں۔ ان کے لمبے لمبے بالوں میں جنگل کی خاک اٹی ہوئی تھی"۔ ٦ - قبر، تربت۔ "دلی مٹ گئی دلی والے خاک میں جا سوئے"۔ ( ١٩٤٤ء، یہ دلی ہے، ٥ ) ٢ - کچھ نہیں (نفی کے معنوں میں) "اس ذلیل اور بے ہودہ قوم پر خاک بھی اثر نہ ہوا"۔ ( ١٩٣٤ء، قرآنی قصے، ١٤٢ ) ٤ - کچھ۔ "حضرت نے کیا پوچھا تھا، مجھے تو خاک نہیں یاد رہا"۔ ( ١٩٢٥ء، مینابازار، شرر ) ٧ - تحقیر کے لیے۔ ایسے سے خاک مہرو وفا کی امید ہو جس پر ہنوز راز محبت عیاں نہ ہو "خاک اچھے ہیں، اچھے ہوتے تو ہماری یہ حالت ہوتی"۔ ( ١٩٠٣ء، گل کدہ، عزیز، ٧٤ )( ١٩٧٥ء، خاک نشین، ٢١ )