خباثت
معنی
١ - گندگی، ناپاکی، خیال بد۔ "میں اپنے نفس میں انواع و اقسام کی خباثتیں پاتا ہوں۔" ( ١٨٧٧ء، توبۃ النصوع، ٣٠٣ ) ٢ - بدباطنی، شرارت، بدطینتی۔ "کیسا قانون بنایا ہے، ١٥ دفعات میں ساری انسانی خباثت کو مقید کر دیا ہے۔" ( ١٩٨٠ء، دیوار کے پیچھے، ١١٩ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٨٤ء کو "عشق نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - گندگی، ناپاکی، خیال بد۔ "میں اپنے نفس میں انواع و اقسام کی خباثتیں پاتا ہوں۔" ( ١٨٧٧ء، توبۃ النصوع، ٣٠٣ ) ٢ - بدباطنی، شرارت، بدطینتی۔ "کیسا قانون بنایا ہے، ١٥ دفعات میں ساری انسانی خباثت کو مقید کر دیا ہے۔" ( ١٩٨٠ء، دیوار کے پیچھے، ١١٩ )