خبر

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - آگاہ، واقف، باخبر۔  عشق میں کوشش اخفائے حقیقیت معلوم دردمندوں کا ہر انداز خبر ہوتا ہے      ( ١٩٤٧ء، نوائے دل، ٣٣٨ ) ١ - حال، احوال، خبریت۔  نہ خط آتا ہے اودھر سے نہ قاصد لکھوں کیا مدتوں سے ہے خبر بند      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ١٠٩٦ ) ٢ - آگاہی، واقفیت۔  اس کی نظر دراصل نظر ہے اس کی خبر دراصل خبر ہے۔      ( ١٩٥٠ء، دھپد (ترجمہ)، ١٦ ) ٣ - ہوش، اوسان، سدھ بدھ۔  ہر نغمہ دلکش میں قیامت کا اثر ہے خود رفتہ ہیں سب اپنی نہ دنیا کی خبر ہے      ( ١٩٢٦ء، مطلع انوار، ٣٨ ) ٤ - مزاج پرُسی، عیادت۔ "ان کا جی ماندا ہے اور کوئی بڑی بوڑھی ان کی خبر کو آگئیں۔ اب جب تک . وہ رہیں گی کیا مقدور ہے جو . لیٹ جائیں"      ( ١٨٧٤ء، مجالس النساء، ٣٤:١ ) ٥ - پیغمبر اسلام کا ارشاد، حدیث نبوی، وحی۔  حجتِ حق کون لندن میں کرے جا کر تمام کون برلن میں کرے تبلیغ قرآن و خبر      ( ١٩٠٣ء، کلیات نظم حالی، ١٠١:٢ ) ٦ - بُری اطلاع، منحوس خبر۔ "اس ایک ذرا سی خبر سے گھر میں کہرام ہو گا"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ١٥٨ ) ٧ - [ قواعد ]  کسی چیز کی بابت جو کچھ کہا جائے، سند (مبتدا کا مقابل)۔  دل مرکزِ اندیشر نہ مل جائے خبر ہے انسان کی دولت ہے کوئی چیز تو سر ہے      ( ١٩٦٦ء، الہام و افکار، ٣٠ ) ٨ - وہ بات جو عقل اور تحقیق سے معلوم ہوا اور باطنی مشاہدے میں نہ آئی ہو۔  نظر درد وغم و سوز وتب وتاب تواے ناداں قناعت کر خبر پر      ( ١٩٣٨ء، ارمغان مجاز، ٢٣٢ ) ٩ - [ منطق ]  خبر کی اصل۔ "خبر وہ مرکب نام ہے جو متحمل صدق و کلب ہو اسی کو قضیہ بھی کہتے ہیں"      ( ١٩٢٣ء، المنطق، ٨ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم اور صفت مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء کو دیوان "حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٤ - مزاج پرُسی، عیادت۔ "ان کا جی ماندا ہے اور کوئی بڑی بوڑھی ان کی خبر کو آگئیں۔ اب جب تک . وہ رہیں گی کیا مقدور ہے جو . لیٹ جائیں"      ( ١٨٧٤ء، مجالس النساء، ٣٤:١ ) ٦ - بُری اطلاع، منحوس خبر۔ "اس ایک ذرا سی خبر سے گھر میں کہرام ہو گا"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ١٥٨ ) ٩ - [ منطق ]  خبر کی اصل۔ "خبر وہ مرکب نام ہے جو متحمل صدق و کلب ہو اسی کو قضیہ بھی کہتے ہیں"      ( ١٩٢٣ء، المنطق، ٨ )

اصل لفظ: خبر