خبیث

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - ناپاک، نجس، پلید، گندا۔ "ان کی ظاہری شکلوں سے دھوکا نہ کھانا یہ اندر سے بڑے بدمعاش، خبیث اور بد ہیں"      ( ١٩٨٢ء، میری داستان حیات، ٧١ ) ٢ - حرام، ممنوعہ، ناجائز۔ "پھر سے بت پوجنے لگیں اور تمام خبیث کام پھر کرنے لگیں جو ہم پہلے کرتے تھے"      ( ١٩٦٠ء، رسول عربی (ترجمہ)، ٨٩ ) ٣ - بُرا، بُری، بد، خراب۔ "رحمت میرے رب کی خبیث لوگوں کے لیے نہیں ہے"      ( ١٩٨١ء، ملامتوں کے درمیان، ١٤٨ ) ٤ - شریرالنفس، بدباطن۔ "عنایت نے اپنا فقرہ مکمل کرکے چھوڑا اگرچہ اس کا باپ 'خبیث کتے چپ کر' کہتا رہا۔"      ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٨٢ ) ٥ - بھوت، پریت، جن۔ "کسی عالم علوی و سفلی کے گھر میں اتنے فرماں بردار موکل یا خبیث نہ ہوں گے"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٩، ٣:٤٣ ) ٦ - [ طب ]  سرطانی، ناسوری، ناسور دار۔ "کبھی کبھی تالو کی غیر خبیث (بے ضرر) اور خبیث دونوں قسم ی رسولیاں پائی جاتی ہیں"      ( ١٩٣٤ء، احشائیات (ترجمہ)، ٦٢ ) ٧ - زہریلا، متحفن، سمی، موذی، مہلک۔ "موسمی بخاروں کے اقسام؛ تعفن دم، ورم بطانۂ قلب خبیث سوء القنیہ کی قسم خبیث"      ( ١٩٣٣ء، بخاروں کا اصول علاج، ٣٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم فاعل ہے اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٦٦٣ء کو "میراں جی خدا نما، نورنین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ناپاک، نجس، پلید، گندا۔ "ان کی ظاہری شکلوں سے دھوکا نہ کھانا یہ اندر سے بڑے بدمعاش، خبیث اور بد ہیں"      ( ١٩٨٢ء، میری داستان حیات، ٧١ ) ٢ - حرام، ممنوعہ، ناجائز۔ "پھر سے بت پوجنے لگیں اور تمام خبیث کام پھر کرنے لگیں جو ہم پہلے کرتے تھے"      ( ١٩٦٠ء، رسول عربی (ترجمہ)، ٨٩ ) ٣ - بُرا، بُری، بد، خراب۔ "رحمت میرے رب کی خبیث لوگوں کے لیے نہیں ہے"      ( ١٩٨١ء، ملامتوں کے درمیان، ١٤٨ ) ٤ - شریرالنفس، بدباطن۔ "عنایت نے اپنا فقرہ مکمل کرکے چھوڑا اگرچہ اس کا باپ 'خبیث کتے چپ کر' کہتا رہا۔"      ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٨٢ ) ٥ - بھوت، پریت، جن۔ "کسی عالم علوی و سفلی کے گھر میں اتنے فرماں بردار موکل یا خبیث نہ ہوں گے"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٩، ٣:٤٣ ) ٦ - [ طب ]  سرطانی، ناسوری، ناسور دار۔ "کبھی کبھی تالو کی غیر خبیث (بے ضرر) اور خبیث دونوں قسم ی رسولیاں پائی جاتی ہیں"      ( ١٩٣٤ء، احشائیات (ترجمہ)، ٦٢ ) ٧ - زہریلا، متحفن، سمی، موذی، مہلک۔ "موسمی بخاروں کے اقسام؛ تعفن دم، ورم بطانۂ قلب خبیث سوء القنیہ کی قسم خبیث"      ( ١٩٣٣ء، بخاروں کا اصول علاج، ٣٩ )

اصل لفظ: خبث