خبیر

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - خبر رکھنے والا، واقف، دانا۔ سنو کہ اِس حرفِ لم یزل کے ہمیں تمہیں بندگانِ بے بس علیم بھی ہیں خبیر بھی ہیں      ( ١٩٦٧ء، سیر وادئ سینا، ٧٧ ) ٢ - آگاہ، مبصر۔  جو بیدار ضمیر انساں ہے دانا اور خبیر انساں ہے      ( ١٩٥٠ء، دھپد (ترجمہ)، ٢٤ ) ٣ - [ مجازا ]  خبر دینے والا، اطلاع پہنچانے والا۔  وہ سفیر جاں وہ خبیر دل ترا آئینہ مرا آئینہ      ( ١٩٧٤ء، غزالاں تم تو واقف ہو، ٥٦ ) ٤ - خدائے تعالٰی کا ایک صفاتی نام۔  تومتین وقادر و قہار وقیوم و کبیر تو لطیف و مانع و رزاق و جبار و خبیر      ( ١٩٨٤ء، الحمد، ٨٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق ہے۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: خبر