خداوند

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - آقا، مالک۔ "مبارک ہے وہ مرد جس کے گناہوں کا حساب خداوند نہ لے گا"    ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٧١٩:٣ ) ٢ - بت، دیوتا۔  دستِ آزر نے ابراہیم کو تخلیق کیا بت نے اٹھ کر کے خداوند کو تصدیق کیا    ( ١٩٧٩ء، جزیرہ، ١٠٧ ) ٣ - آقا، مالک، کسی چیز کی ملکیت رکھنے والا، حاکم، عہدیدار۔  بحر کاہل کے جزیردوں کے افیمی باسی قسمتِ مشرقِ اقصٰی کے خداواند بنے      ( ١٩٧٨ء، ابن انشا، دل وحشی، ٩٦ ) ٤ - [ احتراما ]  (اپنے سے بڑوں کو مخاطب کرنے کے لیے مستعمل) حضرت والا، جناب والا۔ "لڑکے نے جواب دیا، خداوند یہ کیا بات ہے"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٣٥٠ ) ٥ - [ کنایتا ]  محبوب۔  اک بوسہ کا سائل ہوں خداوند سے اے مہر شاہاں چہ عجب گر بنو ازند گدارا      ( ١٨٧٠ء، الماس درخشاں، ٢٧ ) ٦ - بادشاہ کو مخاطب کرنے لیے بولا جاتا ہے۔ "بادشاہ کے سامنے زمین بوس ہو کے عرض کرنے لگا، خداوند میری عمر اس وقت پچاسی برس کی ہے"      ( ١٩٢٣ء، مضامین شرر،١، ٧٠:٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'خدا' کے ساتھ 'وند' بطور لاحقۂ صفت و نسبت لگانے سے 'خداوند' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آقا، مالک۔ "مبارک ہے وہ مرد جس کے گناہوں کا حساب خداوند نہ لے گا"    ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٧١٩:٣ ) ٤ - [ احتراما ]  (اپنے سے بڑوں کو مخاطب کرنے کے لیے مستعمل) حضرت والا، جناب والا۔ "لڑکے نے جواب دیا، خداوند یہ کیا بات ہے"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٣٥٠ ) ٦ - بادشاہ کو مخاطب کرنے لیے بولا جاتا ہے۔ "بادشاہ کے سامنے زمین بوس ہو کے عرض کرنے لگا، خداوند میری عمر اس وقت پچاسی برس کی ہے"      ( ١٩٢٣ء، مضامین شرر،١، ٧٠:٢ )

اصل لفظ: خُدا
جنس: مذکر