خدشہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - فِکر، اندیشہ، کھٹکا، دھڑکا۔ "ناصر کو اس بات کا خدشہ ہے کہ رانی کا باپ آجائے گا"      ( ١٩٧٥ء، خاک نشین، ٦٩ ) ٢ - خطرہ، ڈر۔ "اس بات کا خدشہ ظاہر ہوا کہ بیراج کی تعمیر سے مضافات کے علاوہ کوئی سیم و تھور کا مسئلہ درپیش ہو سکتا ہے"      ( ١٩٧٧ء، پاکستان کا معاشی جغرافیہ، ٥٦ ) ٣ - شک و شبہ، خلش، قباحت۔ "خلاصتہ التواریخ کے بیان سے کسی قسم کا شبۂ پیدا نہیں ہوتا اور نہ میرے نزدیک کوئی خدشہ پیدا ہوتا ہے"      ( ١٩١٨ء، مقالات، شیرانی، ٢١٥ ) ٤ - رگڑ، کھرونچ، نشان۔ "میری احتیاط پر آفرین کہو کہ ایسی جانچ سنبھال کے ساتھ کنجی پھیرتا تھا کہ دونوں سوراخ خدشہ و خراش سے محفوظ رہیں"      ( ١٨٨٧ء، موعظۂ، حسنہ، ٧٢ ) ٥ - [ ادبیات ]  ستم، خامی، جھول۔ "غزل میں دو جگہ کچھ خدشہ ہے اس پر آپ غور کر کے خود ہی الفاظ بدل ڈالیں"      ( ١٩٠٣ء، مکتوبات حالی، ٢٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فِکر، اندیشہ، کھٹکا، دھڑکا۔ "ناصر کو اس بات کا خدشہ ہے کہ رانی کا باپ آجائے گا"      ( ١٩٧٥ء، خاک نشین، ٦٩ ) ٢ - خطرہ، ڈر۔ "اس بات کا خدشہ ظاہر ہوا کہ بیراج کی تعمیر سے مضافات کے علاوہ کوئی سیم و تھور کا مسئلہ درپیش ہو سکتا ہے"      ( ١٩٧٧ء، پاکستان کا معاشی جغرافیہ، ٥٦ ) ٣ - شک و شبہ، خلش، قباحت۔ "خلاصتہ التواریخ کے بیان سے کسی قسم کا شبۂ پیدا نہیں ہوتا اور نہ میرے نزدیک کوئی خدشہ پیدا ہوتا ہے"      ( ١٩١٨ء، مقالات، شیرانی، ٢١٥ ) ٤ - رگڑ، کھرونچ، نشان۔ "میری احتیاط پر آفرین کہو کہ ایسی جانچ سنبھال کے ساتھ کنجی پھیرتا تھا کہ دونوں سوراخ خدشہ و خراش سے محفوظ رہیں"      ( ١٨٨٧ء، موعظۂ، حسنہ، ٧٢ ) ٥ - [ ادبیات ]  ستم، خامی، جھول۔ "غزل میں دو جگہ کچھ خدشہ ہے اس پر آپ غور کر کے خود ہی الفاظ بدل ڈالیں"      ( ١٩٠٣ء، مکتوبات حالی، ٢٦ )

اصل لفظ: خدش
جنس: مذکر