خراب
معنی
١ - غیر آباد، ویران، سنسان۔ "میں نے اس سے پوچھا یہ شہر کب خراب ہوا" ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ١٨ ) ٢ - برباد، تباہ۔ "اس صدی کا ایمان خراب ہو گیا ہے اب صورت کوئی نہیں دیکھتا سب جوڑے گنتے ہیں" ( ١٩٧٣ء، کپاس کا پھول، ٣٥ ) ٣ - پریشان، خستہ حال، برے جال۔ جستجو میں اپنی پھرنے نہ دیجیے ہر سو خراب ٹھو کریں ان ڈھونڈھنے والوں کو کھانے دیجیے ( ١٩١٠ء، خوبی سخن، ٦٢ ) ٤ - عمارت یا سڑک کا خستہ ہونا، ٹوٹا پھوٹا، شکستہ۔ "میں خراب راستے کی طرف ہو لیا اور اس کے لیے راستہ چھوڑ دیا" ( ١٩٧٣ء، انفاس العارفین (ترجمہ)، ١١٩ ) ٥ - بدمست، متوالا، بے حال۔ کوئی خراب تماشا وہاں پہنچ نہ سکا مگر جو میکدہ عشق سے خراب اٹھا ( ١٩٣٤ء، شعلۂ طور، ١٠٤ ) ٦ - آوارہ، بدچلن۔ داغ ہے بدچلن تو ہونے دو سو میں ہوتا ہے اک غلام خراب ( ١٨٩٢ء، مہتاب داغ، ٥٩ ) ٧ - تربیت کا نقص، عدم توجہی۔ "خراب نشو و نما آدمی کو بدصورت یا کم رو بنا دیتے ہیں" ( ١٩٧٧ء، ابراہیم جلیس، الٹی قبر، ١٩١ ) ٨ - ناقابل استعمال، ناقص۔ "اگر سیل میں صرف ایک الیل (Alele) بھی خراب ہو تو یہ بیماری پیدا ہو جاتی ہے" ( ١٩٨٥ء، حیاتیات، ٣٢٥ ) ٩ - گُٹّھل، بغیر دھار کا، ناکارہ۔ اپنے ہاتھوں کا ٹیے اپنے گلے کو وقت ذبح ایک تو نازک ہے قاتل دوسرے خنجر خراب ( ١٨٩٩ء، دیوان، ظہیر، ٦٢:١ ) ١٠ - اچھا کی ضد، بُرا، ناموزوں، ناساز گار۔ خراب وقت ہے اب فاصلہ ہی بہتر ہے کبھی ملیں گے جو ماحول پر سکون ملا ( ١٩٨٥ء، پیٹر اور پتے، ٤٨ ) ١١ - رسوا، ذلیل، خوار۔ "او مورکھ نادان، جو رو تیسری فاحشہ ہے، تجھے اس نے خراب کیا ہے" ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوش ربا، ١٠:١ ) ١٢ - اکارت، ضائع۔ "ایک چھوٹا سا ہوائی، جہاز . درخت سے ٹکرا کر خراب ہو گیا" ( ١٩٨٤ء، کیا قافلہ جاتا ہے، ٣٦ ) ١٣ - نِکما، برا۔ سنیے چچا اگرچہ ہوں کیسا ہی میں خراب لیکن بزرگ کرتے نہیں خردوں پر عتاب ( ١٨٨٢ء، رونق کے ڈرامے، ١١١ ) ١٤ - [ تصوف ] سالک، مستغرق۔ (مصباح التعرف، 111) ١٥ - جسمانی خرابی۔ "خرابی ڈرپوک اور احساس کمتری میں مبتلا بچوں کی صحت خراب ہونے لگی" ( ١٩٧٧ء، ابراہیم جلیس، الٹی قبر، ١٩١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق ہے اردو میں بطور صفت مستعمل ہے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - غیر آباد، ویران، سنسان۔ "میں نے اس سے پوچھا یہ شہر کب خراب ہوا" ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ١٨ ) ٢ - برباد، تباہ۔ "اس صدی کا ایمان خراب ہو گیا ہے اب صورت کوئی نہیں دیکھتا سب جوڑے گنتے ہیں" ( ١٩٧٣ء، کپاس کا پھول، ٣٥ ) ٤ - عمارت یا سڑک کا خستہ ہونا، ٹوٹا پھوٹا، شکستہ۔ "میں خراب راستے کی طرف ہو لیا اور اس کے لیے راستہ چھوڑ دیا" ( ١٩٧٣ء، انفاس العارفین (ترجمہ)، ١١٩ ) ٧ - تربیت کا نقص، عدم توجہی۔ "خراب نشو و نما آدمی کو بدصورت یا کم رو بنا دیتے ہیں" ( ١٩٧٧ء، ابراہیم جلیس، الٹی قبر، ١٩١ ) ٨ - ناقابل استعمال، ناقص۔ "اگر سیل میں صرف ایک الیل (Alele) بھی خراب ہو تو یہ بیماری پیدا ہو جاتی ہے" ( ١٩٨٥ء، حیاتیات، ٣٢٥ ) ١١ - رسوا، ذلیل، خوار۔ "او مورکھ نادان، جو رو تیسری فاحشہ ہے، تجھے اس نے خراب کیا ہے" ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوش ربا، ١٠:١ ) ١٢ - اکارت، ضائع۔ "ایک چھوٹا سا ہوائی، جہاز . درخت سے ٹکرا کر خراب ہو گیا" ( ١٩٨٤ء، کیا قافلہ جاتا ہے، ٣٦ ) ١٥ - جسمانی خرابی۔ "خرابی ڈرپوک اور احساس کمتری میں مبتلا بچوں کی صحت خراب ہونے لگی" ( ١٩٧٧ء، ابراہیم جلیس، الٹی قبر، ١٩١ )