خربوزہ
معنی
١ - گول بیضوی نیز چپٹی شکل کا ایک پھل جو خوشبودار اور میٹھا ہوتا ہے اور عام طور پر ریتلی یا نرم زمین میں اس کی فصل اچھی ہوتی ہے۔ قبض کشا، پیشاب آور مفرح ہوتا ہے۔ "یہاں سے میرے لیے کھانا اور خربوز تربوز کافی مقدار میں آتے تھے" ( ١٩٤٠ء، مضامین، رموزی، ٤٨ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں اپنی اصل حالت اور معنی میں مستعمل ہے ١٤٢١ء "شکار نامہ، رسالہ شہباز" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - گول بیضوی نیز چپٹی شکل کا ایک پھل جو خوشبودار اور میٹھا ہوتا ہے اور عام طور پر ریتلی یا نرم زمین میں اس کی فصل اچھی ہوتی ہے۔ قبض کشا، پیشاب آور مفرح ہوتا ہے۔ "یہاں سے میرے لیے کھانا اور خربوز تربوز کافی مقدار میں آتے تھے" ( ١٩٤٠ء، مضامین، رموزی، ٤٨ )