خرم

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - شادمان، خوش، بشاش۔ "لفظ خرم جسے مسلم مصنفین نے مسرت اور ہر قسم کی شہوانی بے راہ روی کے معنی دیے ہیں اسی نوعیت کی زندگی کا ایک نشان بن گیا"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٨٢٥:٣ ) ٢ - شاداب، تندرست، سرسبز۔  میں نے جانا لے چلے گی یہ گلستان کی طرف یا کنار آب یا خرم بیاباں کی طرف      ( ١٨٣٠ء، نظیر، کلیات، ١٧٧:٢ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ فارسی سے اردو میں داخل ہوا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شادمان، خوش، بشاش۔ "لفظ خرم جسے مسلم مصنفین نے مسرت اور ہر قسم کی شہوانی بے راہ روی کے معنی دیے ہیں اسی نوعیت کی زندگی کا ایک نشان بن گیا"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٨٢٥:٣ )