خرچیلا
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - خرچ، شاہ خرچ، فضول خرچ، مسرف۔ "ہاں اتنا ضرور کہہ دیا کہ ہمارے شیخ جی روپے میں کسی سے کم تو ہیں نہیں اور ہیں بھی خرچیلے۔" ( ١٩٥٤ء، پیر نابالغ، ٧١ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'خرچ' کے ساتھ 'یلا' بطور لاحقہ صفت ملانے سے 'خرچیلا' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٩٨ء میں "یادگار مراد علی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خرچ، شاہ خرچ، فضول خرچ، مسرف۔ "ہاں اتنا ضرور کہہ دیا کہ ہمارے شیخ جی روپے میں کسی سے کم تو ہیں نہیں اور ہیں بھی خرچیلے۔" ( ١٩٥٤ء، پیر نابالغ، ٧١ )
اصل لفظ: خَرْچ