خرید
معنی
١ - خریدی ہوئی، مول لی ہوئی، خرید کردہ، زر خرید۔ "میں نے تیرا نمک کھایا ہے اور تیرے خاوند کا خرید ہوں" ( ١٨٠١ء، طوطا کہانی، ٨ ) ١ - کوئی چیز کسی کو پیسہ دے کر حاصل کرنا، مول لینا۔ مانا کہ قیمتی ہے مگر مفت نذر ہے موقع یہ خوب ہے مرے دل کی خرید کا ( ١٩٢٤ء، دیوان بشیر، ١٤ ) ٢ - لاگت، اصلی قیمت۔ "قیمت جو کچھ فہرست میں ہے نصف خرید ہے اور نصف نفع ہے" ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ٢٠١ ) ٣ - فصل، ناج۔ ناکوں پہ مفسدوں (کے) تعقب کرے ہنوز گھوڑے نے تیرے کھائی ہے اور کھیت کی خرید ( ١٧٤١ء، شاکر ناجی، دیوان، ٣٠٠ ) ٤ - خریدا ہوا غلام یا لونڈی؛ باکرہ لڑکی؛ (مجازاً) شرمیلی رہنے والی لڑکی۔ قلوق و قطوب و رقوب و علوق خریع و خرید و عقیم و بنون ( ١٩٦٩ء، مزمور میر مغنی، ١٢٥ )
اشتقاق
فارسی مصدر 'خریدن' سے حاصل مصدر 'خرید' بنا۔ اردو میں بطور اسم اور گاہے بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٧٤١ء کو "دیوان شاکر ناچی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خریدی ہوئی، مول لی ہوئی، خرید کردہ، زر خرید۔ "میں نے تیرا نمک کھایا ہے اور تیرے خاوند کا خرید ہوں" ( ١٨٠١ء، طوطا کہانی، ٨ ) ٢ - لاگت، اصلی قیمت۔ "قیمت جو کچھ فہرست میں ہے نصف خرید ہے اور نصف نفع ہے" ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ٢٠١ )