خزاں

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ موسم جس میں درختوں کے پتے جھڑ جاتے ہیں، پت جھڑ۔ "موسم خزاں کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی"      ( ١٩٨١ء، جاپانی لوک کتھائیں، ٢٢ ) ٢ - [ مجازا ]  بے رونقی، زوال۔  خزاں کو گود لیا یا اجڑ گئیں گودیں فسانہ ختم ہوا، ماہتاب لکھنے کا      ( ١٩٨١ء، ملامتوں کے درمیان، ٥٧ ) ٣ - بڑھاپا، آخری عمر۔  رکھیانیں ہے کس یک جنس آسماں کہ اول بہار ہور آخر خزاں      ( ١٦٠٩ء، قطب مشتری، ٩٠ ) ٤ - [ تصوف ] بوئے معرفت جو مبتدی کو پہنچنے لگی ہو۔  شکر ایزد کہ ازیں بادِ خزاں رختہ نیافت بوستان سمن و سرود گل و شمشاد است    ( ١٩٢١ء، مصباح التعرف، ١١٢ ) ٥ - انوار و تجلیات کا کم ہو جانا اور مالک کا مقام نامرادی و نیستی میں قدم رکھنا۔ (مصباح التعرف، 112)

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ فارسی سے اردو میں داخل ہوا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ موسم جس میں درختوں کے پتے جھڑ جاتے ہیں، پت جھڑ۔ "موسم خزاں کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی"      ( ١٩٨١ء، جاپانی لوک کتھائیں، ٢٢ )

جنس: مؤنث