خسرو
معنی
١ - سیاوش بن کیکاوس کے بیٹے کا نام جو کیا نیوں میں بہت بڑا صاحبِ اقبال بادشاہ گزرا ہے۔ دماغ ہے یہ ترے میکدے کے فتوں کو جو آئین خسرو جمشید بھی کریں نہ خیال ( ١٨٨١ء، اسیر (مظفر علی)، مجمع البحرین، ١٠٦:٢ ) ٢ - [ مجازا ] بادشاہ، بڑا بادشاہ۔ "حسن بانو نے پھر عرض کی اے خسرو ایسے کافر کو ولی نہ کہیے" ( ١٨٠١ء، آرائش محفل، حیدری، ٩ ) ٣ - ہرمز بن نو شیرواں کا بیٹا جو شاہان ایران میں بڑے جاہ و جلال کا بادشاہ گزرا ہے۔ فرہاد کی معشوقہ شیریں اسی کی ملکہ تھی۔ ہونے کا نہیں دیدۂ شیریں ہی فقط نم خسرو کو بھی ہونا ہے شریکِ صف ماتم ( ١٩٥٨ء، نبض دوراں، ١٦٦ )
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ فارسی سے اردو میں داخل ہوا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - [ مجازا ] بادشاہ، بڑا بادشاہ۔ "حسن بانو نے پھر عرض کی اے خسرو ایسے کافر کو ولی نہ کہیے" ( ١٨٠١ء، آرائش محفل، حیدری، ٩ )