خشوع

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کسی کے سامنے خوف و ہیبت کے ساتھ ساکن اور پست ہونا؛ گڑگڑانا، عاجزی، فروتنی (عام طور پر خضوع کے ساتھ)۔ "نماز کے حقوق دو طرح کے ہیں . دوسرے باطنی وہ خشوع اور حضور یعنی دل کو فارغ کر کے ہمہ تنگ بارگاہِ حق میں متوجہ ہو جانا۔"      ( ١٩٢١ء، احمد رضا بریلوی، تفسیر القرآن الحکیم، ٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٥١ء، کو "عجائب القصص" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی کے سامنے خوف و ہیبت کے ساتھ ساکن اور پست ہونا؛ گڑگڑانا، عاجزی، فروتنی (عام طور پر خضوع کے ساتھ)۔ "نماز کے حقوق دو طرح کے ہیں . دوسرے باطنی وہ خشوع اور حضور یعنی دل کو فارغ کر کے ہمہ تنگ بارگاہِ حق میں متوجہ ہو جانا۔"      ( ١٩٢١ء، احمد رضا بریلوی، تفسیر القرآن الحکیم، ٤ )

اصل لفظ: خشع
جنس: مذکر