خشکہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ابلے ہوئے سادہ چاول۔ "ابھی ابھی خشکہ دم پر لگایا ہے۔"      ( ١٩٦٤ء، آبلہ پا، ١٨١ ) ٢ - گھوڑے کی ایک بیماری جس میں گلے کے دونوں طرف غدود نکل آتے ہیں، گھوڑا دانہ چارہ ترک کر دیتا ہے۔  اس کو پہچان لے کہ خشکہ ہے اس مرض سے غرض وہ خستہ ہے      ( ١٨٤١ء، زینت الخیل، ٧٦ ) ٣ - شئے لطیف سے عاری لوگ۔ "خدا کی پناہ یہاں تک کہ چند بالکل ہی عجیب و غریب خشکوں نے اس حصہ تحریر و کلام میں ایک نہایت ہی اچھوتی ترکیب ایجاد کر لی۔"      ( ١٩٣٣ء، زندگی (مقدمہ)، ملارموزی، ١٤ )

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ لفظ'خشک' کے ساتھ 'ہ' زائد لگانے سے 'خشکہ' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٥٩٣ء کو "آئین اکبری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ابلے ہوئے سادہ چاول۔ "ابھی ابھی خشکہ دم پر لگایا ہے۔"      ( ١٩٦٤ء، آبلہ پا، ١٨١ ) ٣ - شئے لطیف سے عاری لوگ۔ "خدا کی پناہ یہاں تک کہ چند بالکل ہی عجیب و غریب خشکوں نے اس حصہ تحریر و کلام میں ایک نہایت ہی اچھوتی ترکیب ایجاد کر لی۔"      ( ١٩٣٣ء، زندگی (مقدمہ)، ملارموزی، ١٤ )

جنس: مذکر