خشیت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ڈر، خوف۔ "اللہ کی معرفت اور قرب، علم اور خشیت سے حاصل ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٧٥ء، شعر و سخن، ١٦ ) ٢ - غیض و غضب، غصہ، ناراضگی۔  میری رگوں میں ہے خوف و خشیت و آتش نائب حق ہوں یہ میرے فن کا صلہ ہے      ( ١٩٦٣ء، کلک موج، ١١٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٩٢ء میں قلمی نسخہ "تحفۃ الاحباب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ڈر، خوف۔ "اللہ کی معرفت اور قرب، علم اور خشیت سے حاصل ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٧٥ء، شعر و سخن، ١٦ )

اصل لفظ: خشی
جنس: مؤنث