خصلت
معنی
١ - عادت، خو، جبلت۔ "اس میں جو دو کرم کے علاوہ کوئی اچھی خصلت نہ تھی۔" ( ١٩٧٥ء، تاریخ اسلام، ندوی، ٨:٢ ) ٢ - اچھی یا بری اپنائی ہوئی عادت۔ "یہ کام تھا انگلش مقننوں اور انگو انڈین منتظموں کا اور غیر ملازم یورپین کا جو . اعلٰی درجہ کی لیاقت اور خصلت رکھتے تھے۔" ( ١٩٠٤ء، آئین قیصری، ٧١ ) ٣ - تشخص، کردار۔ "یہی ان کی (مسلمان قوم کی) قومی خصلت (نیشنل کیریکٹر) جو ان کو تمام پچھلی اور آئندہ قوموں میں ممتاز کرتی ہے۔" ( ١٩٢٢ء، قول فیصل، ابوالکلام آزاد، ١٠٨ ) ٤ - [ مجازا ] موسم کا حال، کیفیت۔ یہ کیا شہر کے پھول بھی پوچھیں، رنگ بہار کی خصلت یہ کیا خون ہمارا پہنیں خود احباب ہمارے ( ١٩٨١ء، ملامتوں کے درمیان، ٤٩ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - عادت، خو، جبلت۔ "اس میں جو دو کرم کے علاوہ کوئی اچھی خصلت نہ تھی۔" ( ١٩٧٥ء، تاریخ اسلام، ندوی، ٨:٢ ) ٢ - اچھی یا بری اپنائی ہوئی عادت۔ "یہ کام تھا انگلش مقننوں اور انگو انڈین منتظموں کا اور غیر ملازم یورپین کا جو . اعلٰی درجہ کی لیاقت اور خصلت رکھتے تھے۔" ( ١٩٠٤ء، آئین قیصری، ٧١ ) ٣ - تشخص، کردار۔ "یہی ان کی (مسلمان قوم کی) قومی خصلت (نیشنل کیریکٹر) جو ان کو تمام پچھلی اور آئندہ قوموں میں ممتاز کرتی ہے۔" ( ١٩٢٢ء، قول فیصل، ابوالکلام آزاد، ١٠٨ )