خطابی

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - خطاب سے منسوب، زبانی گفتگو سے متعلق۔ "قرآن مجید کے دلائل جس طرح خطابی اور اقناعی ہیں یعنی عام آدمی کو ان سے تسلی ہو جاتی ہے اسی طرح وہ قیاسی اور برہانی بھی ہیں۔"      ( ١٩٠٣ء، علم الکلام، ٩٩:١ ) ٢ - [ منطق ]  تمثیل و دلائل سے ثبوت۔ "قیاس کی چند قسمیں ہیں برہانی، جدلی، خطابی، شعری۔"      ( ١٩٢٣ء، المنطق، ٢٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'خطاب' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ صفت و نسبت ملانے سے 'خطابی' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے ١٨٠٥ء میں "جامع الاخلاق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خطاب سے منسوب، زبانی گفتگو سے متعلق۔ "قرآن مجید کے دلائل جس طرح خطابی اور اقناعی ہیں یعنی عام آدمی کو ان سے تسلی ہو جاتی ہے اسی طرح وہ قیاسی اور برہانی بھی ہیں۔"      ( ١٩٠٣ء، علم الکلام، ٩٩:١ ) ٢ - [ منطق ]  تمثیل و دلائل سے ثبوت۔ "قیاس کی چند قسمیں ہیں برہانی، جدلی، خطابی، شعری۔"      ( ١٩٢٣ء، المنطق، ٢٣ )

اصل لفظ: خطب