خطاط
معنی
١ - فن خطاطی کا جاننے والا، خوشنویس۔ "احمد علی نام، ارشد تخلص، عہد عالمگیری کے نامور طغرا نویس خطاط تھے" ( ١٩٦٣ء، صحیفۂ خوش نویساں، ٨٥ ) ٢ - آخری سطور، آخری حصہ، اختتام۔ "ابتدائی خطاط میں دنیا کی زوال پذیر حالت اور آخرت کی دائمی نعمت یاد دلائی گئی" ( ١٩٧٢ء، جلوۂ حقیقت، ٩٣ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مجرد کے باب از مضاعف سے مبالغے کا صیغہ ہے اردو میں بطورصفت مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے
مثالیں
١ - فن خطاطی کا جاننے والا، خوشنویس۔ "احمد علی نام، ارشد تخلص، عہد عالمگیری کے نامور طغرا نویس خطاط تھے" ( ١٩٦٣ء، صحیفۂ خوش نویساں، ٨٥ ) ٢ - آخری سطور، آخری حصہ، اختتام۔ "ابتدائی خطاط میں دنیا کی زوال پذیر حالت اور آخرت کی دائمی نعمت یاد دلائی گئی" ( ١٩٧٢ء، جلوۂ حقیقت، ٩٣ )