خطرناک

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - خوفناک، ڈراونا، پر خطر۔ "اردو افسانے کو اب تک ایسا چھٹا ہوا اور خطرناک کردار نہیں مل سکا تھا"      ( ١٩٨٣ء، برش قلم، ٢٢ ) ٢ - غلط۔ "کسی کے ظاہر کو شعارِ اسلام کے خلاف دیکھ کر اس کو کافر سمجھنا یا کافر کہہ دینا بڑی خطرناک بات ہے"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ٢٦:١ ) ٣ - خوفناک، متردد، متفکر۔  خطرناک رہتا تھا وہ نامداد دعا مانگتا تھا یہ لیل و نہار      ( ١٨١٠ء، شاہ نامہ (ترجمۂ شمشیر خانی منشی)، ٢٢٨ )

اشتقاق

عربی سے مشتق اسم 'خطر' کے ساتھ فارسی صفت 'ناک' لگانے سے مرکب 'خطرناک' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے ١٨١٠ء کو "شاہ نامہ (ترجمۂ شمشیر خانی، منشی)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خوفناک، ڈراونا، پر خطر۔ "اردو افسانے کو اب تک ایسا چھٹا ہوا اور خطرناک کردار نہیں مل سکا تھا"      ( ١٩٨٣ء، برش قلم، ٢٢ ) ٢ - غلط۔ "کسی کے ظاہر کو شعارِ اسلام کے خلاف دیکھ کر اس کو کافر سمجھنا یا کافر کہہ دینا بڑی خطرناک بات ہے"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ٢٦:١ )