خطرہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - خیال، پروا، فکر، اندیشہ، خوف، وسوسہ۔ "یہ نظم اپنے احتتام پر اس طنز کی طرف بڑھتی ہے جو محب عارضی کا بڑا کارگر حربہ ہے . جو اس وقت ایک بین الاقوامی مسئلہ بنا ہوا ہے اور انسانیت کے لیے ایک مستقل خطرہ۔"      ( ١٩٨٢ء، برش قلم، ٤٤ ) ٢ - [ تصوف ]  اس خیال کو کہتے ہیں جو بندہ کو حق کی طرف بلائے اور بندہ اس کی دفع پر قادر نہ ہو۔ (مصباح التعرف، 113)۔

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خیال، پروا، فکر، اندیشہ، خوف، وسوسہ۔ "یہ نظم اپنے احتتام پر اس طنز کی طرف بڑھتی ہے جو محب عارضی کا بڑا کارگر حربہ ہے . جو اس وقت ایک بین الاقوامی مسئلہ بنا ہوا ہے اور انسانیت کے لیے ایک مستقل خطرہ۔"      ( ١٩٨٢ء، برش قلم، ٤٤ )

اصل لفظ: خطر
جنس: مذکر