خطیر

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بڑا، کثیر، بہت (پیشتر رقم روپیہ پیسہ)۔ "ایک بے بنیاد اطلاع پر منصور نے اس کو فارس سے واپس بلا لیا اور اس کے ذمہ خراج کی ایک خطیر رقم نکالی"      ( ١٩٧٥ء، تاریخ اسلام، معین الدین ندوی، ٧٤:٣ ) ٢ - قابل قدر ومنزلت؛ (کنایتاً) بیش بہا، قیمتی۔  لازم ہے قدر عمر کہ جنسِ خطیر ہے جس کی بہا نہیں ہے وہ درِ بے نظیر ہے    ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ٣٠٢:٣ ) ٣ - عالی رتبہ، عالی منزلت، بزرگ، اعلٰی۔ "پروردگار یہ تصدیق آئمہ اظہار . تم کو مبارک کرے اور منصب پائے خطیر اور مدارج عظیم کو پہنچاوے"    ( ١٨٥٨ء، خطوط غالب، ٢١٢ ) ٤ - خطرناک، جس میں نقصان کا اندیشہ ہو۔  جان کا لڑانا ہے نہ لڑانا ہے آنکھ کا بازی نہیں ہے، عشق مہم خطیر ہے      ( ١٨٧٣ء، دیوان فدا، ٣٤١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے اردو میں بطور صفت مستعمل ہے ١٨٠٥ء کو "آرائش محفل" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بڑا، کثیر، بہت (پیشتر رقم روپیہ پیسہ)۔ "ایک بے بنیاد اطلاع پر منصور نے اس کو فارس سے واپس بلا لیا اور اس کے ذمہ خراج کی ایک خطیر رقم نکالی"      ( ١٩٧٥ء، تاریخ اسلام، معین الدین ندوی، ٧٤:٣ ) ٣ - عالی رتبہ، عالی منزلت، بزرگ، اعلٰی۔ "پروردگار یہ تصدیق آئمہ اظہار . تم کو مبارک کرے اور منصب پائے خطیر اور مدارج عظیم کو پہنچاوے"    ( ١٨٥٨ء، خطوط غالب، ٢١٢ )

اصل لفظ: خطر