خفگی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - آزردگی، ناخوشی، غصہ، عتاب، ناراضی۔ "فرط خفگی سے عنایت بی بی کی آواز کانپ رہی تھی۔"      ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ١١٩ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'خفہ' کی 'ہ' مبدل بہ گ، اور 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'خفگی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٩٤ء کو "دیوان بیدار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آزردگی، ناخوشی، غصہ، عتاب، ناراضی۔ "فرط خفگی سے عنایت بی بی کی آواز کانپ رہی تھی۔"      ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ١١٩ )

اصل لفظ: خفا
جنس: مؤنث