خلاص

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - آزاد، رہا، چُھوٹا ہوا۔ "ہم جدوجہد کرتے ہیں کہ مصائب خلقت کو مصیبت کے وقت میں کم کریں اور اس کو خلاص کریں۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ١٠٥ ) ٢ - مبشارت سے فارغ، انزال کا ہو جانا۔  یوں کر تو دیکھ ہوتی ہوں جلدی سے میں خلاص عریاں خدا کے واسطے ملنے سے تھم نہیں      ( ١٩٣٨ء، کلیات عریاں، ٢٨ ) ٣ - فراغت، کام کا ختم ہونا، ختم۔ "خلاص اب کل تک یہ ٹاپک بند، افتخار نے جوش دلی سے کہا۔"      ( ١٩٨١ء، راجہ گدھ، ٥٤٣ ) ٤ - رہائی، نجات، چھٹکارا۔  دام سے تیرے موسمِ گل میں بلبلوں کو نہیں ہوا ہے خلاص      ( ١٨٥٥ء، کلیات شیفتہ، ٣٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آزاد، رہا، چُھوٹا ہوا۔ "ہم جدوجہد کرتے ہیں کہ مصائب خلقت کو مصیبت کے وقت میں کم کریں اور اس کو خلاص کریں۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ١٠٥ ) ٣ - فراغت، کام کا ختم ہونا، ختم۔ "خلاص اب کل تک یہ ٹاپک بند، افتخار نے جوش دلی سے کہا۔"      ( ١٩٨١ء، راجہ گدھ، ٥٤٣ )

اصل لفظ: خلص
جنس: مذکر