خلاف

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - جھوٹ، غلط۔  ہاں دیکھ تو یہ لاف گزاف اے ساقی یہ بات ہے کس درجہ خلاف اے ساقی      ( ١٩٣٧ء، جنون و حکمت، ١٣١ ) ٢ - اختلاف۔ "اس نے اطاعت کی تو فبہا ورنہ فوراً قتل کروں گا تم کو خلاف نہ ہو گا۔"      ( ١٩٠٢ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ١٥٩:٣ ) ٣ - مخالف، دشمنی، برخلافی۔  ہر بشر ہم جنس کا دشمن ہے میرے کی طرح دیکھتا ہوں صورتِ شطرنج میں گھر گھر خلاف    ( ١٩٠٧ء، دفتر خیال، ٧٠ ) ٤ - برخلاف ہونا، ایفا نہ کرنا (وعدہ وغیرہ کا)۔  چلایا ہاتھ مار کے زانو پہ ابن سعد زیبا دلاوروں کو نہیں ہے خلاف وعد    ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ٣٥٨:١ ) ٥ - [ علم الکلام۔ ]  وہ علم جس میں اختلافی مسائل سے بحث ہوتی ہے، بحث و مناظر کا علم، علم الجدل، مناظرہ۔ "فقہ اور خلاف میں یکتا تھا۔"      ( ١٨٩٥ء، تہذیب الاخلاق، ٣٥:٢ ) ١ - برعکس، ناموافق، برخلاف۔ "کسی بھی سیاسی جماعت کے خلاف حکومت کی کارروائی اس جماعت کے عمل کا ردعمل ہو گا۔"      ( ١٩٨٦ء، جنگ، کراچی، ٥ ) ٢ - بے جا، نامناسب۔ "جب خداوند نے تقدیر کی تو اب آپ کو شک لانا خلاف ہے کیونکہ خداوند کبھی کسی سے جھوٹ نہیں بولتے ہیں۔"      ( ١٨٩٦ء، لعل نامہ، ٢٣٦:١ ) ٣ - جھوٹا (وعدہ وغیرہ)۔  وعدے تھے سب خلاف جو تجھ لب سے ہم سنے یہ لعل قیمتی دیکھو جھوٹا نکل گیا    ( ١٧٥٦ء، آرزو، (نکات الشعراء، ٢١٨:٢) ) ٤ - مخالفت، دشمن۔  اس رسم و راہ پر تو بگڑتے ہیں بار بار کیا جانے کیا ہو دل سے وہ ہو جائیں گر خلاف    ( ١٩٠٣ء، سفینۂ نوح، ٧٠ ) ٥ - اختلاف کرنے والا، ناموافق رائے رکھنے والا۔ "بیوی کو کسی امیر کے یہاں نہ جانے دیتا، مینا بازار کے آنے کے بھی خلاف تھا۔"    ( ١٩٢٥ء، مینابازار، شرر، ٩٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو بطور صفت اور گاہے بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - اختلاف۔ "اس نے اطاعت کی تو فبہا ورنہ فوراً قتل کروں گا تم کو خلاف نہ ہو گا۔"      ( ١٩٠٢ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ١٥٩:٣ ) ٥ - [ علم الکلام۔ ]  وہ علم جس میں اختلافی مسائل سے بحث ہوتی ہے، بحث و مناظر کا علم، علم الجدل، مناظرہ۔ "فقہ اور خلاف میں یکتا تھا۔"      ( ١٨٩٥ء، تہذیب الاخلاق، ٣٥:٢ ) ١ - برعکس، ناموافق، برخلاف۔ "کسی بھی سیاسی جماعت کے خلاف حکومت کی کارروائی اس جماعت کے عمل کا ردعمل ہو گا۔"      ( ١٩٨٦ء، جنگ، کراچی، ٥ ) ٢ - بے جا، نامناسب۔ "جب خداوند نے تقدیر کی تو اب آپ کو شک لانا خلاف ہے کیونکہ خداوند کبھی کسی سے جھوٹ نہیں بولتے ہیں۔"      ( ١٨٩٦ء، لعل نامہ، ٢٣٦:١ ) ٥ - اختلاف کرنے والا، ناموافق رائے رکھنے والا۔ "بیوی کو کسی امیر کے یہاں نہ جانے دیتا، مینا بازار کے آنے کے بھی خلاف تھا۔"    ( ١٩٢٥ء، مینابازار، شرر، ٩٣ )

اصل لفظ: خلف
جنس: مذکر