خلافت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - نیابت، جانشینی، قائم مقامی؛ خلیفہ کا منصب، اللہ تعالٰی کی نیابت؛ رسولۖ کی نیابت۔  خلافت ازل سے ہے شیدائے تاج یہ وہ راج راجے کہ نازاں ہے راج      ( ١٨٦٨ء، شکوہ فرنگ (اورینٹل کالج میگزین، جون، ٢٣:١٩٧٣) ) ٢ - مرشد (پیر طریقت) کی نیابت یا جانشینی۔ "جناب منشی صاحب نے مولوی اشرف علی . اور نوشہ خاں صاحب کو خلافت عطا فرمائی"      ( ١٩٢٩ء، تذکرہ کاملان رام پور، ١٣٧ ) ٣ - خلافت راشدہ۔ "فرمایا،"خلافت" (یعنی خلافت راشدہ) میرے بعد تیس برس ہو گی پھر بادشاہی ہو جائے گی"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٦٤١:٣ ) ٤ - ایک تحریک کا نام جو مسلمانان ہند نے پہلی جنگ عظیم کے بعد تزکیہ کی خلافت کی بقا کے لیے شروع کی تھی مگر ناکام رہی۔ "مولانا نے . ملک کے طول و عرض کا دورہ کیا اور خلافت کمیٹی کی شاخیں قائم کیں"      ( ١٩٨٦ء، جنگ، کراچی، ٢١ جولائی : ٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - مرشد (پیر طریقت) کی نیابت یا جانشینی۔ "جناب منشی صاحب نے مولوی اشرف علی . اور نوشہ خاں صاحب کو خلافت عطا فرمائی"      ( ١٩٢٩ء، تذکرہ کاملان رام پور، ١٣٧ ) ٣ - خلافت راشدہ۔ "فرمایا،"خلافت" (یعنی خلافت راشدہ) میرے بعد تیس برس ہو گی پھر بادشاہی ہو جائے گی"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٦٤١:٣ ) ٤ - ایک تحریک کا نام جو مسلمانان ہند نے پہلی جنگ عظیم کے بعد تزکیہ کی خلافت کی بقا کے لیے شروع کی تھی مگر ناکام رہی۔ "مولانا نے . ملک کے طول و عرض کا دورہ کیا اور خلافت کمیٹی کی شاخیں قائم کیں"      ( ١٩٨٦ء، جنگ، کراچی، ٢١ جولائی : ٣ )

اصل لفظ: خلف
جنس: مؤنث