خلش

قسم کلام: اسم کیفیت ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - چبھن؛ کھٹک۔  غضب کہ لٹ گئی دولتِ غم محبت کی نہ اب خلش رہی باقی نہ درد باقی ہے      ( ١٩٨٣ء، حصار انا، ١١٢ ) ٢ - رنج، فکر، الجھن، پریشانی۔ "ایک اندرونی اضطراب اور خلش سے اس کے چہرے پر تشنج کے اثرات پھیل گئے۔"      ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ١١٦ ) ٣ - خصومیت، بغض، کینہ، رنجش۔  دشت میں باعثِ ایذا ہیں ستم گار بہت آبلوں سے مرے رکھتے ہیں خلش خار بہت      ( ١٩٠٧ء، دفتر خیال، ٣٥ )

اشتقاق

فارسی زبان کے مصدر 'خلیلدن' سے حاصل مصدر 'خلش' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٩٤ء کو "جنگ نامہ دو جوڑا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - رنج، فکر، الجھن، پریشانی۔ "ایک اندرونی اضطراب اور خلش سے اس کے چہرے پر تشنج کے اثرات پھیل گئے۔"      ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ١١٦ )