خلقت
معنی
١ - مخلوق، نوع انسان، بنی آدم، لوگ۔ "دلی کی خلقت سے . کنی کاٹ رہا ہوں۔" ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٣٢ ) ٢ - لوگوں کا ہجوم، لوگوں کی بڑی تعداد۔ "ایک خلقت اس کو سننے اکٹھی ہوئی تھی۔" ( ١٩٧٨ء، بے سمت مسافر، ٥٣ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٩١ء کو "قصہ فیروز شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مخلوق، نوع انسان، بنی آدم، لوگ۔ "دلی کی خلقت سے . کنی کاٹ رہا ہوں۔" ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٣٢ ) ٢ - لوگوں کا ہجوم، لوگوں کی بڑی تعداد۔ "ایک خلقت اس کو سننے اکٹھی ہوئی تھی۔" ( ١٩٧٨ء، بے سمت مسافر، ٥٣ )