خلیل

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سچا دوست۔  سن اے سالک جادۂ راہ الفت محب محمد خلیلِ خدا ہے      ( ١٩٦٣ء، فارقلیط، ٧٣ ) ٢ - [ تصوف ]  اوس کو کہتے ہیں جس میں محبت غالب ہو اور معشوق حقیقی پر بھی اطلاق کرتے ہیں۔ (مصباح التعرف) ٣ - لقب حضرت ابراہیم۔  صدیقِ خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق معرکہ وجود میں بدرو حنین بھی ہے عشق      ( ١٩٣٥ء، بال جبریل، ١٥٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم صفت ہے اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: خلل
جنس: مذکر