خمار
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - مے فروش، شراب بنانے والا، کلال۔ چراغ بت کدہ و خشت خانۂ خمار وداع و وصل کے دیوان کا مصور ہوں ( ١٩٦٢ء، برگِ خزاں، ٤١ ) ٢ - شرابی، بہت شراب پینے والا۔ خم خانہ الست کے خمار ہیں کہاں عہد سلف کے رند قدح خوارہیں کہاں ( ١٩٣١ء، بہارستان، ٣٨٢ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مجرد کے باب از مضاعف سے مبالغ کا صیفہ ہے۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: خمر