خمیدہ
معنی
١ - خم کھایا ہوا، مڑا ہو، ٹیڑھا، کجی لیے ہوئے۔ "جپسم کا ذخیرہ یہاں شمال، جنوب کی طرف خمیدہ پہاڑیوں میں مستعمل ملتا ہے۔" ( ١٩٨٣ء، معاشی جغرافیہ پاکستان، ١٧٢ ) ٢ - جھکا ہوا، کبڑا۔ "اپنی خمیدہ کمر کے ساتھ کسی گوشے میں خستہ بیٹھے ہوں گے۔" ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٤٨ ) ٣ - کسی کے آگے ادب سے جھکا ہونا، سرنگوں۔ "جو آپ سید کے آگے خمیدہ ہوا۔" ( ١٩٣٤ء، حیات محسن، ٥٥ )
اشتقاق
فارسی زبان مصدر 'خمیدن' سے مشتق صیغۂ حالیہ تمام 'خمیدہ' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٩٥ء کو "دیوان قائم" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خم کھایا ہوا، مڑا ہو، ٹیڑھا، کجی لیے ہوئے۔ "جپسم کا ذخیرہ یہاں شمال، جنوب کی طرف خمیدہ پہاڑیوں میں مستعمل ملتا ہے۔" ( ١٩٨٣ء، معاشی جغرافیہ پاکستان، ١٧٢ ) ٢ - جھکا ہوا، کبڑا۔ "اپنی خمیدہ کمر کے ساتھ کسی گوشے میں خستہ بیٹھے ہوں گے۔" ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٤٨ ) ٣ - کسی کے آگے ادب سے جھکا ہونا، سرنگوں۔ "جو آپ سید کے آگے خمیدہ ہوا۔" ( ١٩٣٤ء، حیات محسن، ٥٥ )