خنک

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - سرد، ٹھنڈا۔ "ایک دم بدن میں خنک جھرجھری اٹھی ہے۔"    ( ١٩٨٠ء، دیوار کے پیچھے، ١٠٦ ) ٢ - بے حس، جامد، افسردہ۔  آدمی کے تئیں کچھ گرمی صحبت ہے شرط وہ بھی انسان ہے دنیا میں جو اتنا ہو خنک    ( ١٧٨٠ء، سودا، کلیات، ٢٧١ ) ٣ - روکھا پھیکا، بے مزہ، غیر دلکش، بے کیف۔ "تمہاری نئی خواہشیں بھی دسمبر کی اس شام ایسی خنک ہیں۔"    ( ١٩٨٠ء، زرد آسماں، ٢١ ) ٤ - تر و تازہ، خوش، مسرور۔  دل یہ کہتا تھا کہ آنکھوں میں سبک ہوں گے ہم حریہ کہتا تھا کہ فرحت سے خنک ہوں گے ہم      ( ١٩١٢ء، شمیم، ریاض شمیم، ٧:٢ ) ٥ - فرحت بخش، دل و دماغ میں تر و تازگی پیدا کرنے والا یا ٹھنڈک پہنچانے والا۔ "اگر کوئی خنک سی چاندنی رات اس کے لیے میسر آ جائے تو کیا کہنا۔"      ( ١٩٢٤ء، مذاکرت نیاز، ١٠٤ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ فارسی سے اردو میں داخل ہوا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سرد، ٹھنڈا۔ "ایک دم بدن میں خنک جھرجھری اٹھی ہے۔"    ( ١٩٨٠ء، دیوار کے پیچھے، ١٠٦ ) ٣ - روکھا پھیکا، بے مزہ، غیر دلکش، بے کیف۔ "تمہاری نئی خواہشیں بھی دسمبر کی اس شام ایسی خنک ہیں۔"    ( ١٩٨٠ء، زرد آسماں، ٢١ ) ٥ - فرحت بخش، دل و دماغ میں تر و تازگی پیدا کرنے والا یا ٹھنڈک پہنچانے والا۔ "اگر کوئی خنک سی چاندنی رات اس کے لیے میسر آ جائے تو کیا کہنا۔"      ( ١٩٢٤ء، مذاکرت نیاز، ١٠٤ )