خوابیدہ
معنی
١ - سویا ہوا۔ "بستر ناز پر کسی خوابیدہ حسینہ کی طرح پڑی ہوئی نظر آئی۔" ( ١٩٧٥ء، بدلتا ہے رنگ آسمان، ١٣ ) ٢ - بے حرکت، پرسکون، خاموش۔ موجوں نے کوئی کروٹ بدلی خوابیدہ کنارے جاگ اٹھے دریا کے اندھیرے سینے میں سوتے ہوئے دھارے جاگ اٹھے ( ١٩٨٢ء، تارگربیاں، ٦٧ ) ٣ - بے حس، سن۔ شور محشر ہوا گر نالۂ زنجیر کی جا پائے خوابیدہ ہمارا کبھی بیدار نہ ہو ( ١٨١٦ء، دیوان ناسخ، ٧٦:١ ) ٤ - چھپا ہوا، پوشیدہ۔ "اس کی خوابیدہ صلاحتیں یک لخت بیدار ہوگئیں۔" ( ١٩٧٤ء، 'پیمان'، کراچی، ١٨ فروری، ٤ ) ٥ - (سبزہ وغیرہ) جھکا ہوا، سرنگوں، پژمردہ۔ دامن لارنس میں ہر سمت وہ خوابیدہ پھول ذرے ذرے کو چمن زار جناں سمجھا تھا میں ( ١٩٤٦ء، اختر ستان، ١٣٠ )
اشتقاق
فارسی زبان میں مصدر 'خوابیدن' سے مشتق اسم صیغۂ حالیہ تمام 'خوابیدہ' اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٦ء کو "دیوان ناسخ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سویا ہوا۔ "بستر ناز پر کسی خوابیدہ حسینہ کی طرح پڑی ہوئی نظر آئی۔" ( ١٩٧٥ء، بدلتا ہے رنگ آسمان، ١٣ ) ٤ - چھپا ہوا، پوشیدہ۔ "اس کی خوابیدہ صلاحتیں یک لخت بیدار ہوگئیں۔" ( ١٩٧٤ء، 'پیمان'، کراچی، ١٨ فروری، ٤ )