خواجہ
معنی
١ - صاحب و مالک، آقا، سردار، حاکم۔ یہ عشق ہی تھا کہ محمود نے ایازی کی نہیں تو خواجہ کو کیا تھی غلام سے نسبت ( ١٩٤٧ء، نوائے دل، ٧٦ ) ٢ - توازن میں سادات کا لقب۔ (فرہنگ آصفیہ؛ نوراللغات) ٣ - وہ شخص جس کی ماں سیدانی اور باپ شیخ ہو (برصغیر میں)۔ "کشمیری بھانڈ کی اولاد خواجہ کیسے بن گئی۔" ( ١٩٤٣ء، دِلی کی چند عجیب ہستیاں، ٧ ) ٤ - وہ شخص جس کے خصیے نکال دیئے گئے ہوں، جس کے عضو تناسل نہ ہو، خصی مرد، ہیجڑا۔ "جسولنیاں خواجے باہر کی عرض معروض بادشاہ سے کر رہی ہیں۔" ( ١٨٨٥ء، بزم آخر، ١١ )
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ فارسی سے اردو میں داخل ہوا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٣ - وہ شخص جس کی ماں سیدانی اور باپ شیخ ہو (برصغیر میں)۔ "کشمیری بھانڈ کی اولاد خواجہ کیسے بن گئی۔" ( ١٩٤٣ء، دِلی کی چند عجیب ہستیاں، ٧ ) ٤ - وہ شخص جس کے خصیے نکال دیئے گئے ہوں، جس کے عضو تناسل نہ ہو، خصی مرد، ہیجڑا۔ "جسولنیاں خواجے باہر کی عرض معروض بادشاہ سے کر رہی ہیں۔" ( ١٨٨٥ء، بزم آخر، ١١ )