خوار

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - جو نگاہوں میں حقیر اور سبک ہو، جو قابل نفرت و تحقیر ہو۔ ذلیل، رسوا، بے عزت۔  اس زمانے میں جو خود دار نظر آتا ہے عام لفظوں میں وہی خوار نظر آتا ہے      ( ١٩٧١ء، صد رنگ، ١٣٢ ) ٢ - آوارہ، سرگرداں، پریشاں۔ "ان میں چند ممتاز رومن تو کافی خوار بھی ہوئے۔"      ( ١٩٨٠ء، دجلہ، ١٥ ) ٣ - ہیچ، ناچیز، بے قدرو قیمت، بہت معمولی حیثیت کا۔  میں اس مرد کوں خوار جانیا اتھا نہیں مردی اس کی پچھانیا اتھا      ( ١٦٤٩ء، خاور نامہ، ٦٦١ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ فارسی سے اردو میں داخل ہوا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - آوارہ، سرگرداں، پریشاں۔ "ان میں چند ممتاز رومن تو کافی خوار بھی ہوئے۔"      ( ١٩٨٠ء، دجلہ، ١٥ )