خواہش
معنی
١ - کسی بات یا شے کے حصول کی چاہت یا طلب، آرزو، تمنا، ارمان، چاہ۔ "وہ زیادہ سے زیادہ دو منٹ وہاں ٹھہرتی تھی مگر . تپ دق کے بوڑھے مریض کے اندر زندہ رہنے کی خواہش میں اضافہ کر دیتی تھی۔" ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٦٧ ) ٢ - شہوت۔ "جب زیادہ خواہش نے زور کیا تو دست درازی شروع کی۔" ( ١٩٠٢ء، آفتاب شجاعت، ٣٥:١ ) ٣ - کھانے یا پینے کی طرف میلان یا رغبت، بھوک۔ "اگر خواہش ہوتی نوش فرماتے اور اگر رغبت نہ ہوتی تو چھوڑ دیتے۔" ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب، ٦ ) ٤ - مرضی، پسند۔ "خواہش ہماری فطرت فعلی کا ایک اظہار ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اس کی تشریح مرضی یا رجحان سے کرنی ہو گی۔" ( ١٩٤٠ء، اصول نفسیات، ٢:٣ ) ٥ - مطلب، مقصد، مراد، مدعا، مقصود۔ یک بار بر نہ آئی اس سے امید دل کی اظہار کرتے کب تک یوں بار بار خواہش ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٤٣٣ )
اشتقاق
فارسی مصدر 'خواستن' کا حاصل مصدر 'خواہش' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کسی بات یا شے کے حصول کی چاہت یا طلب، آرزو، تمنا، ارمان، چاہ۔ "وہ زیادہ سے زیادہ دو منٹ وہاں ٹھہرتی تھی مگر . تپ دق کے بوڑھے مریض کے اندر زندہ رہنے کی خواہش میں اضافہ کر دیتی تھی۔" ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٦٧ ) ٢ - شہوت۔ "جب زیادہ خواہش نے زور کیا تو دست درازی شروع کی۔" ( ١٩٠٢ء، آفتاب شجاعت، ٣٥:١ ) ٣ - کھانے یا پینے کی طرف میلان یا رغبت، بھوک۔ "اگر خواہش ہوتی نوش فرماتے اور اگر رغبت نہ ہوتی تو چھوڑ دیتے۔" ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب، ٦ ) ٤ - مرضی، پسند۔ "خواہش ہماری فطرت فعلی کا ایک اظہار ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اس کی تشریح مرضی یا رجحان سے کرنی ہو گی۔" ( ١٩٤٠ء، اصول نفسیات، ٢:٣ )