خوب
معنی
١ - (ایجاب کے موقع پر) جی ہاں، بہت اچھا، بہتر، ٹھیک۔ "کلمات ایجاب . جی، جی ہاں، اچھا، بہت اچھا، خوب، بہت خوب . درست، صحیح۔" ( ١٩٧٣ء، جامع القواعد (حصہ نحو)، ١٥٣ ) ٢ - (تحسین کے موقع پر) واہ وا، کیا کہنا، سبحان اللہ۔ "تحسین کے لیے: شاباش، آفرین، آفرین صدر آفرین، خوب بہت خوب، واہ . مرحبا صل علٰی۔" ( ١٩٧٣ء، جامع القعاعد (حصہ نحو)، ١٦١ ) ٣ - [ طنزا ] چہ خوش، عجیب بات ہے، حیرت کی بات ہے۔ "خوب یک نہ شد دو شد اپنی ننھی بہنوں کو تو کچھ کہا نہیں الٹے مجھی کو قائل معقول کرنا شروع کر دیا۔" ( ١٩٠٠ء، خورشید بہو، ١٨ ) ١ - اچھے اوصاف کا حامل، عمدہ، اچھا، بھلا۔ اہل فراق کچھ بتاؤ اہل مذاق کچھ بتاؤ کون سی شے ہے خوب اِدھر کون سی خوب تر ادھر ( ١٩٥٢ء، سخن مختصر، ٢٩ ) ٢ - (طنز و تحقیر کے موقع پر) بہت خوب۔ تھی خوب حضور علما باب کی تقریر بیچارہ غلط پڑھتا تھا اعراب سموات ( ١٩٣٦ء، ضرب کلیم، ٤٢ ) ٣ - جو رنگ روپ اور شکل و صورت کے لحاظ سے آنکھوں کو بھلا لگے، خوش نما، حسین و جمیل؛ خوبصورت۔ خوبانِ زمانہ سے بہت خوب بنایا بنتے ہی خود اپنا اسے محبوب بنایا ( ١٩١٢ء، شمیم، ریاض شیمی، ٩:٢ ) ٤ - نفیس، اعلٰی درجے کا۔ "ان نے کہاں میرے شہر میں ایک ذات کا انگور ہے کہ اس کو خایہ غلاماں کہتے ہیں اور تمہارے مریش بابا سے خوب ہے۔" ( ١٨٠٢ء، نقلیات، ٥٩ ) ٥ - وہ فعل جس کا نتیجہ اچھا ہو، مفید، سود مند۔ یاد اس کی اتنی خوب نہیں میر باز آ نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ١٢٥ ) ٦ - موزوں، مناسب، زیبا۔ چشم عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئین تو خوب یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محروم یقیں ( ١٩٣٦ء، ارمغان حجاز، ٢٢٦ ) ٧ - جو حسب دل خواہ ہو، پسندیدہ، خوشگوار۔ اندازِ سخن خوب چلن خوب ادا خوب جو بات تمہاری ہے وہ ہے نام خدا خوب ( ١٨٧٠ء، کلیات واسطی، ٥٦:١ ) ٨ - عجیب و غریب، حیرت انگیز۔ "شرع والوں نے باتیں تو واللہ خوب نکالی ہیں سب کی سب حکمت پر مبنی ہیں۔" ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ٢٠٥:١ ) ٩ - قابل تعریف، لائق تحسین۔ فکر مرہم کا میرے واسطے مت کر ناصح خوب ہوتا نہیں اس عشق کا ناسور کبھو ( ١٧٥٥ء، یقین، دیوان، ٤٢ ) ١ - معشوق، پیارا، محبوب (بیشتر طور جمع مستعمل)۔ روش بدل گئی خوبوں کی چشمِ فتاں کی نگاہِ شوخ کی گردش ہوئی ہے خانہ نشیں ( ١٩٠٣ء، نظم نگاریں، ٦ ) ١ - بہت اچھی طرح، مکمل طور پر۔ "جب آسمان پر کالے کالے بادل خوب گھر کر چھائے ہوں۔" ( ١٩٧٧ء، ابراہیم جلیس، الٹی قبر، ١٦٩ ) ٢ - بہت اچھے طریقے سے، بحسن و خوبی۔ "تاہم بالڈوں نے اپنی سلطنت کو خوب بچائے رکھا۔" ( ١٩١٢ء، محار بات صلیبی، ٧٦ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ ہے۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ اوستائی سے فارسی میں اور فارسی سے اردو میں داخل ہوا۔ اردو میں بطور صفت اسم متعلق فعل اور بطور حرفِ ایجاب و تحسین مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء کو "پرت نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - (ایجاب کے موقع پر) جی ہاں، بہت اچھا، بہتر، ٹھیک۔ "کلمات ایجاب . جی، جی ہاں، اچھا، بہت اچھا، خوب، بہت خوب . درست، صحیح۔" ( ١٩٧٣ء، جامع القواعد (حصہ نحو)، ١٥٣ ) ٢ - (تحسین کے موقع پر) واہ وا، کیا کہنا، سبحان اللہ۔ "تحسین کے لیے: شاباش، آفرین، آفرین صدر آفرین، خوب بہت خوب، واہ . مرحبا صل علٰی۔" ( ١٩٧٣ء، جامع القعاعد (حصہ نحو)، ١٦١ ) ٣ - [ طنزا ] چہ خوش، عجیب بات ہے، حیرت کی بات ہے۔ "خوب یک نہ شد دو شد اپنی ننھی بہنوں کو تو کچھ کہا نہیں الٹے مجھی کو قائل معقول کرنا شروع کر دیا۔" ( ١٩٠٠ء، خورشید بہو، ١٨ ) ٤ - نفیس، اعلٰی درجے کا۔ "ان نے کہاں میرے شہر میں ایک ذات کا انگور ہے کہ اس کو خایہ غلاماں کہتے ہیں اور تمہارے مریش بابا سے خوب ہے۔" ( ١٨٠٢ء، نقلیات، ٥٩ ) ٨ - عجیب و غریب، حیرت انگیز۔ "شرع والوں نے باتیں تو واللہ خوب نکالی ہیں سب کی سب حکمت پر مبنی ہیں۔" ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ٢٠٥:١ ) ١ - بہت اچھی طرح، مکمل طور پر۔ "جب آسمان پر کالے کالے بادل خوب گھر کر چھائے ہوں۔" ( ١٩٧٧ء، ابراہیم جلیس، الٹی قبر، ١٦٩ ) ٢ - بہت اچھے طریقے سے، بحسن و خوبی۔ "تاہم بالڈوں نے اپنی سلطنت کو خوب بچائے رکھا۔" ( ١٩١٢ء، محار بات صلیبی، ٧٦ )