خودی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - اپنی ذات، نفس، روح، شعور، ذات، خود شعوری۔ "شمالی کوریا نے خودی کا کبھی سودا نہیں کیا۔"      ( ١٩٨٣ء، کوریا کہانی، ٢٤٩ ) ٢ - خود پسندی، انانیت، غرور، تکبر، خود سری، خودرائی۔  اس کی خودی پہ جائے نہ قسام روزِ حشر یہ بات تو ازل سے مزاج بشر میں ہے      ( ١٩٨٣ء، حصارِ انا، ١٠٥ ) ٣ - خود غرضی۔  جواں لہر کی وہ پینگیں وہ مست انگڑائی وہ نخوتیں وہ اذیت، خودی، خود آرائی      ( ١٩٥٥ء، دونیم، ٣٢ ) ٤ - [ تصوف ]  انانیت کو کہتے ہیں یہ دو قسم پر ہے ایک اپنی خودی دوسری حق کی جس کو انا مطلق کہتے ہیں۔ (مصباح التعرف، 115)

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ لفظ 'خود' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'خودی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ملتا ہے۔ ١٦٥٤ء کو "گنج شریف" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اپنی ذات، نفس، روح، شعور، ذات، خود شعوری۔ "شمالی کوریا نے خودی کا کبھی سودا نہیں کیا۔"      ( ١٩٨٣ء، کوریا کہانی، ٢٤٩ )

اصل لفظ: خود
جنس: مؤنث