خوش
معنی
١ - شادماں، مسرور، خور سند، مگن۔ "ماں بھی اس سے خوش تھی چونکہ بیٹے کی کمائی باپ کے مزاج کو ہرا بھرا رکھتی تھی" ( ١٩٨٩ء، اوکھے لوگ، ١٧١ ) ٢ - پسند آنے والا، اچھا لگنے والا، عمدہ، مرغوب، پسندیدہ؛ مترادف: خوش آیند۔ "سبحان اللہ کیا خوب گانا ہے کیا خوب خوش ترانہ ہے، گانا جادو کا اثر رکھتا ہے" ( ١٩٠١ء، عشق و عاشقی کا گنجینہ، ١١ ) ٣ - ہر اعتبار سے مناسب اور درست، موزوں، صحیح، ٹھیک۔ جیٹھ ہو جانے دے آنے دے اساڑھ خوش نہیں گرمی کے موسم میں سفر ( ١٨٥٨ء، تراب، کلیات، ٩٨ ) ٤ - حواس کو لذت بخشنے والا، خوش گوار، شیریں۔ "اعلٰی حضرت و اقدس بعد تخت نشینی اورنگ آباد رونق افروز ہوئے تو یہاں کی خوش آب و ہوا کو بہت پسند فرمایا" ( ١٩٢٥ء، چند ہم عصر، ١٣٤ ) ٥ - کسی کام، بات یا شخص سے راضی اور مطمئن رضامند۔ "میں نے یہ پوچھا ہے کہ کیا اس کے بغیر تم خوش نہیں رہے سکتے" ( ١٩٧٥ء، خاک نشین، ١٣٥ ) ٦ - وہ بات یا کام جو گوارا ہو، قبول، منظور۔ "اسرائیل نے یوسف سے کہا اب مجھے مرنا خوش ہے کہ میں نے تیرا منہ دیکھا کہ تو ابھی تک جیتا ہے" ( ١٩٢٢ء، موسٰی کی توریت مقدس، ١٩٠ ) ٧ - تازگی اور شادابی رکھنے والا، تروتازہ۔ للہ الحمد کہ پھر وقتِ خوش اپنا دیکھا گلشن خاطر غم دیدہ شگفتہ دیکھا ( ١٨٦٨ء، شعلہ جوالہ، ٢٦٧:١ ) ٨ - اپنے مقصد میں کامیاب اور بامراد، مقصدور۔ ایسے میں جرات اور بھی پڑھ لے کوئی تازہ غزل پھر اس طرح سے خوش تجھے پانا محال ہے ( ١٨٠٩ء، جرات، کلیات، ٥٦٨ )
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے فارسی سے اردو میں داخل ہوا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - شادماں، مسرور، خور سند، مگن۔ "ماں بھی اس سے خوش تھی چونکہ بیٹے کی کمائی باپ کے مزاج کو ہرا بھرا رکھتی تھی" ( ١٩٨٩ء، اوکھے لوگ، ١٧١ ) ٢ - پسند آنے والا، اچھا لگنے والا، عمدہ، مرغوب، پسندیدہ؛ مترادف: خوش آیند۔ "سبحان اللہ کیا خوب گانا ہے کیا خوب خوش ترانہ ہے، گانا جادو کا اثر رکھتا ہے" ( ١٩٠١ء، عشق و عاشقی کا گنجینہ، ١١ ) ٤ - حواس کو لذت بخشنے والا، خوش گوار، شیریں۔ "اعلٰی حضرت و اقدس بعد تخت نشینی اورنگ آباد رونق افروز ہوئے تو یہاں کی خوش آب و ہوا کو بہت پسند فرمایا" ( ١٩٢٥ء، چند ہم عصر، ١٣٤ ) ٥ - کسی کام، بات یا شخص سے راضی اور مطمئن رضامند۔ "میں نے یہ پوچھا ہے کہ کیا اس کے بغیر تم خوش نہیں رہے سکتے" ( ١٩٧٥ء، خاک نشین، ١٣٥ ) ٦ - وہ بات یا کام جو گوارا ہو، قبول، منظور۔ "اسرائیل نے یوسف سے کہا اب مجھے مرنا خوش ہے کہ میں نے تیرا منہ دیکھا کہ تو ابھی تک جیتا ہے" ( ١٩٢٢ء، موسٰی کی توریت مقدس، ١٩٠ )