خیانت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کسی کی امانت میں چوری یا ناجائز تصرف، غبن۔ "یہ پتہ چلا کہ ارنلڈ نے امانت میں خیانت کی ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ٥٣ ) ٢ - بد دیانتی، بے ایمانی، فریب، دھوکا۔ "نقص عہد . خیانت ہے۔"      ( ١٨٣٨ء، بستانِ حکمت، ١٢٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی کی امانت میں چوری یا ناجائز تصرف، غبن۔ "یہ پتہ چلا کہ ارنلڈ نے امانت میں خیانت کی ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ٥٣ ) ٢ - بد دیانتی، بے ایمانی، فریب، دھوکا۔ "نقص عہد . خیانت ہے۔"      ( ١٨٣٨ء، بستانِ حکمت، ١٢٠ )

اصل لفظ: خون
جنس: مؤنث