د

قسم کلام: حرف تہجی

معنی

١ - صوتی اعتبار سے اردو حروف تہجی کا سترھواں، دیوناگری کا اٹھارواں، فارسی کا دسواں اور عربی کا آٹھواں حرف صحیح (مصمتہ"، صوتیات کی رو سے مستقل صوتیہ۔ اسے دال مصمتہ اور دال غیر منقوطہ بھی کہتے ہیں۔ اس کا مخرج دانت ہیں، اس وجہ سے دندانی یا اسنانی حرف کہلاتا ہے۔ زبان کی نوک بالائی دانتوں کے پیچھے ہوا روک کر چھوڑی جائے تو یہ مصمتہ پیدا ہوتا ہے۔ شمسی حرف ہے یعنی اس پر 'ا ل' داخل ہو تو پڑھا نہیں جاتا۔ ترتیب ابجد میں عطارد یا برج اسد (پانچویں برج) کی علامت ہے۔ "بغیر نقطوں والے حروف غیر منقوطہ یا حروف مہملہ کہلاتے ہیں، جیسے : ا، ح، د، ر، س وغیرہ۔"      ( ١٩٧٧ء، اردو املا اور رسم الخط، ١٠٥ )

اشتقاق

اردو حرف تہجی ہے اور بطور اصلی حرف ہی مستعمل ہے اور تحریراً سب سے پہلے ١٨٢٠ء سے "قواعد زبان اردو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - صوتی اعتبار سے اردو حروف تہجی کا سترھواں، دیوناگری کا اٹھارواں، فارسی کا دسواں اور عربی کا آٹھواں حرف صحیح (مصمتہ"، صوتیات کی رو سے مستقل صوتیہ۔ اسے دال مصمتہ اور دال غیر منقوطہ بھی کہتے ہیں۔ اس کا مخرج دانت ہیں، اس وجہ سے دندانی یا اسنانی حرف کہلاتا ہے۔ زبان کی نوک بالائی دانتوں کے پیچھے ہوا روک کر چھوڑی جائے تو یہ مصمتہ پیدا ہوتا ہے۔ شمسی حرف ہے یعنی اس پر 'ا ل' داخل ہو تو پڑھا نہیں جاتا۔ ترتیب ابجد میں عطارد یا برج اسد (پانچویں برج) کی علامت ہے۔ "بغیر نقطوں والے حروف غیر منقوطہ یا حروف مہملہ کہلاتے ہیں، جیسے : ا، ح، د، ر، س وغیرہ۔"      ( ١٩٧٧ء، اردو املا اور رسم الخط، ١٠٥ )

جنس: مؤنث