داتا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ شخص جو بخشش کرنے والا ہو، دینے والا، سخی، مہربان؛ خُدا۔ "اے موہن! چلو سیدھے سیالکوٹ چلیں، ممکن ہے . داتا ہمیں جیتے جاگتے . واپس لے آئے۔"      ( ١٩٦٢ء، حکایاتِ پنجاب (ترجمہ)، ٢٣٨:١ ) ٢ - فقیر، درویش، سائیں۔ "داتا بھگوان کی آب پر کرپا رہے، ٹھیک بات آپ نے فرمائی۔"      ( ١٩٠٠ء، خورشید بہو، ١٠٣ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوانِ حسن شوقی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ شخص جو بخشش کرنے والا ہو، دینے والا، سخی، مہربان؛ خُدا۔ "اے موہن! چلو سیدھے سیالکوٹ چلیں، ممکن ہے . داتا ہمیں جیتے جاگتے . واپس لے آئے۔"      ( ١٩٦٢ء، حکایاتِ پنجاب (ترجمہ)، ٢٣٨:١ ) ٢ - فقیر، درویش، سائیں۔ "داتا بھگوان کی آب پر کرپا رہے، ٹھیک بات آپ نے فرمائی۔"      ( ١٩٠٠ء، خورشید بہو، ١٠٣ )

جنس: مذکر