دار
معنی
١ - وہ لمبی لکڑی جسے زمین میں گاڑ کر اور اُس کے سِرے پر حلقہ باندھ کر مجرم کو پھانسی دیتے ہیں، پھانسی، سُولی۔ جھومتے ہیں تہِ شاخ دار اے چمن لے ترے نونہالوں کو نیند آ گئی ( ١٩٥٨ء، تارِ پیراہن، ١١٥ ) ٢ - سولی کی سزا، سزائے موت؛ سخت سزا۔ دار سے بھی گزر کے دیکھ لیا طے محبت کی رہ گزر نہ ہوئی ( ١٩٧٩ء، زخمِ ہنر، ١٨٩ ) ٣ - لکڑی، لکڑی کا ٹکڑا۔ دونوں ہات اس کے درخت چنار دونوں پانو ہور رانِ مانندِ دار ( ١٦٤٩ء، خاور نامہ، ٢٢٧ ) ٤ - درخت، یپڑ۔ "پرانی فارسی میں دار درخت کو کہتے ہیں۔" ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٩٦:٤ ) ٥ - ایک نوکدار جنگلی ہتھیار۔ "سعد نے دیکھا کہ ایک عنقریب خونخوار آہن کا دار کاندھے پر رکھے ہوئے سامنے آیا اور دار کا وار کیا۔" ( ١٩٠٢ء، طلسمِ نوخیز جمشیدی، ١٧٣:٣ )
اشتقاق
اوستائی زبان کے لفظ 'دَوْرُ' سے فارسی میں ماخوذ 'دار' اردو میں اصل صورت و مفہوم کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٤ - درخت، یپڑ۔ "پرانی فارسی میں دار درخت کو کہتے ہیں۔" ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٩٦:٤ ) ٥ - ایک نوکدار جنگلی ہتھیار۔ "سعد نے دیکھا کہ ایک عنقریب خونخوار آہن کا دار کاندھے پر رکھے ہوئے سامنے آیا اور دار کا وار کیا۔" ( ١٩٠٢ء، طلسمِ نوخیز جمشیدی، ١٧٣:٣ )