دارالخلافہ

قسم کلام: اسم ظرف مکان

معنی

١ - وہ جگہ جہاں حکومت یا فرماں روا کے عمال اور دفاتر ہوں، دار السلطنت، پایۂ تخت، حکومت کا صدر مقام، دارالحکومت۔ "میرٹھ کی . چھاؤنی دارالخلافہ دہلی سے صرف چھتیس میل کے فاصلہ پر ایک اہم فوجی چھاؤنی تھی۔"      ( ١٩٧٠ء، آج کا اردو ادب، ٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'دار' کے بعد 'ا ل' بطور حرف تخصیص لگا کر عربی ہی سے ماخوذ اسم 'خلافہ' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٦٥ء کو "علی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ جگہ جہاں حکومت یا فرماں روا کے عمال اور دفاتر ہوں، دار السلطنت، پایۂ تخت، حکومت کا صدر مقام، دارالحکومت۔ "میرٹھ کی . چھاؤنی دارالخلافہ دہلی سے صرف چھتیس میل کے فاصلہ پر ایک اہم فوجی چھاؤنی تھی۔"      ( ١٩٧٠ء، آج کا اردو ادب، ٥ )

جنس: مذکر